Wednesday, 11 April 2018

آؤ کچھ دیر کے لئے جاناں ہم محبت سے ہار جاتے ہیں




کچھ آج ایسا کرتے ہیں
جو حقیقت ہے
بھول جاتے ہیں
میں نے مانا
کہ زندگی میں تری
قاعدے اور اصول آتے ہیں
پھر بھی کچھ دیر کے لئے جاناں
جو حقیقت ہے
بھول جاتے ہیں
بھول جائیں
جو رائیگانی ہے
دکھ سے لکھی ہوئی کہانی ہے
ہجر کا کاری وار بھی بھولیں
اور غم - روزگار بھی بھولیں
بھول جائیں کہ اپنے ہاتھوں میں
ٹوٹی پھوٹی ہوئی لکیریں ہیں
یہ بھی بھولیں کہ اپنے پیروں میں
اپنی تقدیر کی زنجیریں ہیں
بھول جائیں کہ اب ہمیں تاعمر
بس انہی دائروں میں چلنا ہے
زندہ رہنا ہے اور مرنا ہے
یہ حقیقت سہی
مگر جاناں
اس سے پہلے کہ زندگی ڈھل کر
مجھ میں اک دن غروب ہو جائے
آؤ ناں
آج بھول جاتے ہیں
آؤ ناں
آج ہمسفر بن کر
ہم بھی خوابوں کے پار جاتے ہیں
آؤ
کچھ دیر کے لئے جاناں
ہم محبت سے ہار جاتے ہیں

No comments:

Post a Comment

...........‏فراق کیا ہے اگر، یادِ یار دل میں رہے خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے جون ایلیا