کچھ آج ایسا کرتے ہیں
جو حقیقت ہے
بھول جاتے ہیں
میں نے مانا
کہ زندگی میں تری
قاعدے اور اصول آتے ہیں
پھر بھی کچھ دیر کے لئے جاناں
جو حقیقت ہے
بھول جاتے ہیں
بھول جائیں
جو رائیگانی ہے
دکھ سے لکھی ہوئی کہانی ہے
ہجر کا کاری وار بھی بھولیں
اور غم - روزگار بھی بھولیں
بھول جائیں کہ اپنے ہاتھوں میں
ٹوٹی پھوٹی ہوئی لکیریں ہیں
یہ بھی بھولیں کہ اپنے پیروں میں
اپنی تقدیر کی زنجیریں ہیں
بھول جائیں کہ اب ہمیں تاعمر
بس انہی دائروں میں چلنا ہے
زندہ رہنا ہے اور مرنا ہے
یہ حقیقت سہی
مگر جاناں
اس سے پہلے کہ زندگی ڈھل کر
مجھ میں اک دن غروب ہو جائے
آؤ ناں
آج بھول جاتے ہیں
آؤ ناں
آج ہمسفر بن کر
ہم بھی خوابوں کے پار جاتے ہیں
آؤ
کچھ دیر کے لئے جاناں
ہم محبت سے ہار جاتے ہیں
جو حقیقت ہے
بھول جاتے ہیں
میں نے مانا
کہ زندگی میں تری
قاعدے اور اصول آتے ہیں
پھر بھی کچھ دیر کے لئے جاناں
جو حقیقت ہے
بھول جاتے ہیں
بھول جائیں
جو رائیگانی ہے
دکھ سے لکھی ہوئی کہانی ہے
ہجر کا کاری وار بھی بھولیں
اور غم - روزگار بھی بھولیں
بھول جائیں کہ اپنے ہاتھوں میں
ٹوٹی پھوٹی ہوئی لکیریں ہیں
یہ بھی بھولیں کہ اپنے پیروں میں
اپنی تقدیر کی زنجیریں ہیں
بھول جائیں کہ اب ہمیں تاعمر
بس انہی دائروں میں چلنا ہے
زندہ رہنا ہے اور مرنا ہے
یہ حقیقت سہی
مگر جاناں
اس سے پہلے کہ زندگی ڈھل کر
مجھ میں اک دن غروب ہو جائے
آؤ ناں
آج بھول جاتے ہیں
آؤ ناں
آج ہمسفر بن کر
ہم بھی خوابوں کے پار جاتے ہیں
آؤ
کچھ دیر کے لئے جاناں
ہم محبت سے ہار جاتے ہیں

No comments:
Post a Comment