Tuesday, 10 March 2020


چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں



چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں
اور   یہ سب دریچہ ہائے   خیال
جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں
بند کر دوں کچھ اس طرح کہ یہاں
یاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے
چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں
اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں
جیسے تم صرف اک کہانی تھیں
جیسے میں صرف اک فسانہ تھا
__________________________

No comments:

Post a Comment

...........‏فراق کیا ہے اگر، یادِ یار دل میں رہے خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے جون ایلیا